بنگلورو14؍فروری (ایس او نیوز) ودھان سودھا میں خالی پڑے ہوئے ایک کمرے کو وزیر کا دفتر بتاتے ہوئے کاجو بیج کے تاجر کو 1.12کروڑ روپے کا دھوکہ دینے والی ایک گینگ کا پردہ فاش ہوا ہے۔کبن پارک پولیس نے جن ملزمین کو گرفتار کیا ہے ان میں سابق وزیرکے بیٹے اور پوتے سمیت8افراد شامل ہیں۔
گرفتار شدہ ملزمین کی شناخت شیشادی پور کے رہنے والے سابق وزیر پلنی اپا کا بیٹا پی کارتی کیئن (۶۰سال)، اس کا بیٹا کے سوروپ کے علاوہ جعل سازی میں ساتھ دینے اور باڈی گارڈ کے طور پر رہنے والے منی کنٹھا واسن(۲۵سال)، کے وی سومن(۲۷سال)، آر ابھیلاش (۲۷سال)، تملناڈو کے رہنے والے آر کارتک(۳۴سال)، ایم پربھو (۳۰سال) اور جان مون(۴۹سال) کی حیثیت سے کی گئی ہے۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق تملناڈو کے رہنے والے کاجو بیج کے تاجر رمیش نے انشورنس کمپنی کی ایجنٹ اندرا کے سامنے یہ مسئلہ رکھا کہ انہیں اپنے کاروبار کو فروغ دینے کے لئے 100کروڑ روپیوں کا قرضہ درکا رہے۔ تواندرا نے رمیش کوسندرم، سیلوم اور کارتی کیئن نامی اپنے شناساؤں سے متعارف کروایا۔ان لوگوں نے منسٹرکو 1.12%کمیشن دینے پرمنسٹر کے فنڈ سے 1%سود پر قرضہ دلانے کا وعدہ کیا۔پھر رمیش کو سبز باغ دکھاتے ہوئے منسٹر سے معاملہ طے کرنے کے لئے2جنوری کو ودھان سودھامیں لے آئے۔ ودھان سودھا کے پہلے منزلے پرایک خالی کمرے میں کارتی کیئن نے خود کو وزیر بتاتے ہوئے رمیش سے کہا کہ منسٹر فنڈ سے 100کروڑ روپے قرضہ منظور کردیا جائے گا مگر پہلے جو کمیشن بنتا ہے وہ کمرے سے باہر کھڑے اپنے بیٹے کے پاس دیگر ضروری دستاویزات کے ساتھ جمع کروادے۔
اس کے بعد فریب کاروں کی یہ ٹولی رمیش کو ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں لے گئے ۔ وہاں پارکنگ لاٹ میں اسٹامپ پیپرس پر اس کے دستخط، پانچ چیکس اور تصاویر لیں۔رمیش نے کمیشن اور اسٹامپ پیپر ڈیوٹی کے طور پر 1.12کروڑ روپے نقد اور آن لائن کے ذریعے 50ہزار روپے ادا کیے۔پھر یہ ٹولی نے قرضے کی رقم پہنچانے کا وعدہ کرکے وہاں سے لاپتہ ہوگئی۔جس کے کچھ دنوں بعد رمیش نے ودھان سودھا پولیس تھانے میں شکایت درج کروائی۔ بعد میں یہ کیس کبن پارک پولیس اسٹیشن میں منتقل کیا گیا۔ پولیس نے ودھان سودھا کے مختلف دروازوں پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کے فوٹیج سے دھوکہ باز ٹولی کی شناخت کرلی اور انہیں گرفتارکرلیا ۔پولیس کے بیان کے مطابق رمیش کے اکاؤنٹ سے جو رقم ٹرانسفر کی گئی تھی وہ تملناڈو میں موجود ایک ٹرسٹ کے اکاؤنٹ میں جمع ہوگئی تھی، پولیس کے لئے اس کیس کو حل کرنے میں یہی ایک اہم سراغ ثابت ہوا۔
پولس کو اس بات کا بھی پتہ چلا کہ ودھان پریشد میں حزب اختلاف کے لیڈر کوٹا شرینواس پجاری کے ملاقاتیوں کے لئے مخصوص کمرے کی دیکھ بھال کرنے والے مہادیوا نامی شخص کو 5ہزار روپے دے کر دھوکے بازوں نے رمیش سے ملاقات کے لئے کمرہ بک کیاتھا۔کارتی کیئن اپنے ساتھ چند باڈی گارڈز رکھتا تھا اور ودھان سودھا، وکاس سودھا، لیجسلیٹرز ہوم وغیرہ میں ایک وزیر کی طرح گھومتا پھرتا رہتا تھا۔وہ ایم ایل ایز ہاسٹل میں موجود سرکاری کاروں کی نگرانی کرنے والوں کے ساتھ ساز باز کرکے کار کرایے پر لیتا تھا اور ودھان سودھا میں آتاتھا۔اس کے باڈی گارڈز پبلک پاس لے کر ودھان سودھا میں داخل ہوتے تھے۔
سنٹرل زون کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس ڈی دیوراج کے بیان کے مطابق منی کنٹھاکی ماں کے اکاؤنٹ سے 10لاکھ روپے، سوروپ کی بیوی کے اکاؤنٹ سے 25لاکھ روپے اور نقد 5لاکھ روپوں سمیت جملہ 40لاکھ روپے ضبط کیے گئے ہیں۔